pakistan, Multan, Emarkaz, Urdu, Poetry, Shop Online, Digital Maps, EShop, Emart, Craft, bazar, blog, earn mony, adsense, adword

 Urdu Font Download

فرسٹ پوزيشن

مولانا قاري منصور احمد

بادشاہ دربار ميں کئي مرتبہ اٍس بات پر مسرت اور اطمينان کا اظہار کر چکا تھا کہ ميرے دورے حکومت ميںامن و امان کا دور دورہ ھے۔لوگ ہنسي خوشي زندگي بسر کر رہے ہيں۔اور ہر وقت چہار سو چين کي بنسري بج رہي ھے۔کوئي شور غوغا ھے نہ کوئي ہنگامہ،نہ کوئي احتجاج ھے نہ کوئي ہڑتال،جلسے ھيں نہ جلوس،نعرے ھيں نہ ہلڑ بازي، لوگ پتنگ اڑا رھے ھيں اور ميراتھن ميں شوق سے دوڑتے ھيں۔کرکٹ ميچ ميں جوق در جوق شريک ہوتے ھيں اور اجتماعي شاديوں ميں پھولے نھيں سماتے۔بلکہ وہ تو يہ بھي تمنا دِل ميں بسائے ہونگے کہ ساري قوم کي ايک مرتبہ پھر شادي ہو جائے۔

ايک وزير با تدبير نے جان کي امان طلب کر کے ڈرتے ہوۓ عرض کيا :حضور کو اطمينان ہے کہ يہ خوشحالي اور امن کا نتيجہ ھے بےحسي کا نھيں۔؟ بادشاہ نے کہا اس بات کا فيصلہ تو باآساني ريفرنڈم کے زريعے  ہو سکتا ھے۔وزير نے ہاتھ جوڑ کر عرض کيا ميرے دماغ ميں ايک اور عمدہ ترکيب ھے ۔ھم شہر پناہ کے دروازے پر ايک سپاھي مقرر کر ديں۔جب لوگ صبح سويرے کام سے شہر سے باھر جائيں تو يہ ان کوپانچ پانچ چھتر مارےاس سے دو فائدے ھوں گے ۔ايک تو کسي نتيجے پر پہنچنا آسان ہوگادوسراحس حاکميت کو تسکين ہو گي۔بادشاہ کو اپنے دانا اور کنوارے وزير کي يہ تدبير بہت پسند آئي۔حکم جاري ہوا اور لوگ قطار ميں کھڑے ہو کر چھتر کھانے لگے۔چند دنوں ميں کوئي ردعمل سامنے نہ آيا توچھتروں کي تعداد ميں اضافے کا فيصلہ ايسے ہو گيا جيسے خزانے ميں ڈالروں کا ہوتا ھے۔

اس فيصلے کو ابھي دو دن گزرے تھے کہ محل کے دروازے پر لوگوں کا ايک ہجوم نظر آيا۔بادشاھ کو خبر ہوئي تو کابينہ کو بلايا اور ترکيب دہندہ وزير کے کاندھے پر ہاتھ مار کر گويا ہوا۔ديکھا ھم نہ کہتے تھے لوگ خوشحالي کي وجہ سے خاموش ھيں۔بے حسي کے سبب سے نہيں۔ديکھ لو اپني تذليل کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ھيں۔کنوارے وزير نے دست بستہ عرض کي حضور کا اقبال بلند ہو۔اور غريب عوام پر آپ کا سايہ تا دير قائم و دائم ہو۔اجازت ہو تو بندہ ان سے مذاکرات کرے اور ہنگامے کا سبب دريافت کرے۔

محل کي بالکوني سے وزير نے جھانکا تو لوگوں نے وزير اور بادشاہ کے زندہ باد کے نعرے لگائے اور مطالبہ کيا کہ جوتے مارنے والي عملے ميں اضافہ کيا جائے ۔صبح ميچ اور شام کو ڈرامے کا وقت نکل جاتا ھے۔

عالمي برادري نے ھماري بے حسي ماننے اور جاننے کے جو پيمانے مقرر کئے ہيں۔ان کے بہت سے مراحل ھم بہت کاميابي سے طے کر چکے ھيں۔شدت اور انتہا پسندي کا خاتمہ ہو چکا ھے۔عالمي امن کے لئے خطرہ بن جانے والے دہشت گردوں کي حوالگي ،وزيرستان اور باجوڑ ميں ان کي بربادي سے ميراتھن تک ۔ہميں فرسٹ ڈويثرن تو مل چکي ھے ۔مگر ھم فرسٹ پوزيشن کے چکر ميں ھيں۔اس کي اہليت جانچنے کے لئے عالمي برادري نے جو کڑا پيمانہ تيار کيا ھے۔وہ سامنے ھے۔عرب دنيا يا اسلامي برادي پہلے تک تو ھمارے ساتھ تھے مگر اب ان کے حوصلے بھي جواب دے گئے ھيں۔وہ اپنے آقاوءں کي نوازشوں کو چھوڑ کر احتجاج پر آ رھے ھيں۔انہوں نے بائيکاٹ کي روش اختيار کي ھے۔وہ ڈينماک کے دودھ دہي مکھن اور گوشت کو لات مارنے کو تل گئے ہيں۔ان کے پاس تو تيل ھے اس لئے چوڑے ہو رہے ہيں۔ھم تو عالمي برادري ميں شامل ھيں۔ اسلامي برادري ميں نہيں۔عرب ملکوں سے ھماري عليک سليک فقط تيل کے حصول کے لئے ھے۔يون بھي ہمارہ اسلام غازي علم دين جيسي جزباتيت اور سطحيت سے بالا تر ہو چکا ھے۔ضروري نھيں کہ آدمي جس پر ايمان لے آئے اس پر جان بھي لٹا دے۔اتنا کم ھے کہ ھم سرکار دو عالم صلي اللہ عليہ وسلم کے نام کو چومتے ھيں۔اور آپکے دن مناتے ھيں ۔بس اتنا کافي ھے۔

ھم نے بڑي مشکل سے امريکہ اور عالمي برادري کي نظروں ميں کچھ وقعت حاصل کے ھے۔ھم ڈنمارک کے بيوقوف آرٹسٹوں کي حرکتوں يا عرب دنيا کے جذباتي احتجاج پر اپني پوزيشن قربان نھيں کر سکتے۔جس کے ايمان کو خطرہ ہو وہ اخبار نا پڑہے ۔انٹرنيٹ نہ ديکھے عالمي خبريں نہ پڑھے۔يہ ترکيب ھم پہلے بتا چکے ھيں۔ جس کو نيکر پہننے والي لڑکياں پسند نہ ہوں وہ آنکھيں بند کر ليں۔

کل ايک غمزدہ دوست آئے اور کہنے لگے۔ھم تو ساحر لدھيانوي جيسے شرابي کبابي سے گئے گزرے ہو گئے۔آقائے دو عالم صلي اللہ عليہ وسلم کي ذات اقدس کے بارے ميں عين نشے کي حالت ميں ہلکا سا لفظ سن کر آپے سے باہر ھو گئے تھے۔ايسي حرکت پر تو جوش مليح آبادي کو بھي جوش آجاتا ھے۔ھميں کيا ہو گيا ھے ۔ پھر انہون نے بڑے درد سے يہ شعر پڑھا۔

کوئي نہيں غزنوي کارگہ حيات ميں

قافلہ حجاز ميں ايک حسين بھي نہيں

ميں نے سوچا ايسے لو گوں کي موجودگي ميں شايد ھم بے حسي کي فرسٹ پوزيشن نا لے سکيں۔  

 
يہ صفحہ اپنے احباب کو بھيجيں تمام جملہ حقوق بحق من موجي ويب ڈويلپرز محفوظ ہيں