pakistan, Multan, Emarkaz, Urdu, Poetry, Shop Online, Digital Maps, EShop, Emart, Craft, bazar, blog, earn mony, adsense, adword

Dua, Apnamultan,apna multan,pakistan,Mujtaba, 03336105018,Multan, All About Multan, PIA Schedule, Railway Timings, PUrdu Font Downloadrayer Timings, Google Search, Business Directory, Business Search, Education, BZU Multan, Govt. Colleges, Historical Places, Oldest City In the World, Mujtaba, Manmoji Web Developers, City of Saints

سيّد الاستغفار

ترجمہ؛ اے اللہ تو ہي ميرا رب ہے،تيرے علاوہ کوئي عبادت کے لائق نہيں،تونے مجھے پيدا کيا اور ميں تيرا بندہ ہوں اور مين تيرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں جس قدر طاقت رکھتا ہوں۔ميں نے جو کچھ کيا ا کے شر سے تيري پناہ مانگتا ہوں۔اپنے آپ تيري نعمت کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں، پس مجھے بخش دے کيونکہ تيرے سوا کوئي گناہوں کو بخش نہيں سکتا۔

فائدہ جو بھي اللہ کي بندي يا بندہ اسے ايمان و يقين کي حالت ميں اس کے معني اور مفہوم کو سمجھتےشام کے وقت پڑھے اور اسي رات فوت ہوجائے تو وہ جنت ميں داخل ہوگا۔اسي طرح صبح کے وقت پڑھے اور شام سے پہلے فوت ہو جائے تو جنت ميں داخل ہو گا۔

[بخاري ]

دعا

اے ميرے اللہ ميں تجھ سے التجا کرتا/کرتي  ہوں قضاء و قدر کے فيصلوں ميں کاميابي کي اور تجھ سے مانگتا / مانگتي ہوں تيرے شہيد بندوں والي زندگي اور دشمنوں کے مقابلے ميں تيري حمايت اور مدد۔

وضو کے بعد کيا پڑھا جائے

ترجمہ: ميں گواہي ديتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئي معبود نہيں وہ تنہا ہے، اس کا کوئي شريک نہيں،اور ميں گواہي ديتا ہوں کہ محمد  [صلي اللہ عليہ وسلم] اللہ کے بندے اور رسول ہيں۔

فائدہ: يہ دوسرا کلمہ شہادت ہے۔وضو کے بعد يہ کلمات پڑھنے چاہئيں۔آدمي اس کلمے کے الفاظ ومعاني پر غور کرے تو يہ ايک طرح سے اللہ تعالي کي توحيد اور رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم کي نبوت و رسالت پر ايمان کي تجديد ہے۔

 

دل کے ميل کچيل کو صاف فرما دے

ترجمہ:اے ميرے اللہ ميرے گناہوں کے اثرات دھو ڈال برف اور اولوں کے پاني سے۔اسي طرح ميرے دل کو پاک صاف فرما دے جيسے سفيد کپڑے سے ميل کچيل صاف کياجاتا ہےاور ميرے گناہوں کے درميان اتني دوري پيدا فرما دے جتني آپ نے مشرق و مغرب کے درميان کر دي ہے۔

   [بخاري]                                                                                                 

 

عذاب قبر و جہنم اور فتنہ سے حفاظت کے لئے

ترجمہ: اے ميرے اللہ ميں تيري پناہ پکڑتا/پکڑتي ہوں قبر کے عذاب اور جہنم کے عذاب سے اور موت کے فتنے سے مسيح دجال کے فتنے کے شر سے۔فائدہ انسان خطاکار ہے۔اس سے غلطياں سر زد ہوجاتي ہيں جن کا نتيجہ عذاب قبرو جہنم ہے چنانچہ اللہ تعالي سے دونوں کے متعلق پناہ مانگتے رہنا چاہئے۔اس کے علاوہ زندگي اور موت کے بعض فتنے جن ميں مبتلا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اور اسي طرح دجال جس کا شر خوف ناک ہوگا۔اس سے بھي خلوص دل کے ساتھ پناہ مانگتے رہنا چاہيۓ۔

 

                                            

انوکھي دعا

لوگ ہر طرف سے زيارت کے لئے لپکے۔ايک نوجوان طلحہ بن براء بھي دوڑ پڑا۔نزديک پہنچتے ہي حضور صلي اللہ عليہ وسلم سے لپٹ گيا، بے خودي کے عالم ميں آپ کے مبارک ہاتھوں کو بوسے دينے لگا۔ پھر اس نے عرض کيا؛

اے اللہ کے رسول صلي اللہ عليہ وسلم آپ مجھے جس کام کا حکم فرمائيں گے،بجا لاؤں گا۔ہر گز کسي بات ميں بھي آپ کي نافرماني نہيں کروں گا۔

طلحہ بن براء رضي اللہ عنہ اس وقت بالکل نوعمر تھے۔اس نوعمري ميں ان کے جملے سن کر،ان کي جرات ديکھ کر آپۖ ہنس پڑےاور امتحان کے طور پر فرمايا؛

جاؤ اپنے باپ کو قتل کرآؤ

طلحہ جيسے تيار ہي کھڑے تھے۔ان کي باتيں کوئي زباني باتيں توتھيں نہيں۔فوراً آپۖ کے ارشاد کي تعميل کےليے چل پڑے۔حضور نبي کريم صلي اللہ عليہ وسلم نے روک ليا،فرمايا؛

يہ صرف آزمائش تھي۔مجھے اللہ تعالي نے رشتے داروں سے تعلقات توڑنے کے ليے نہيں بھيجا۔

يہ وہ موقع تھاجب آپۖ ہجرت فرما کر مدنيہ منورہ پہنچے تھے۔گويا يہ حضرت طلحہ بن براء رضي اللہ عنہ کي آپۖ سے پہلي ملاقات تھي۔کچھ عرصہ بعد يہ بيمار ہو گئےاور اتنے بيمار ہوۓ کہ بچنے کي اميد نہ رہي۔آخري دنوں ميں رسول اللہ صلي عليہ وسلم ان سے ملنے کے تشريف لائے۔آپۖ نے ديکھا،ان کا وفادار خادم بستر مرگ پر ہے،دنياسے رخصت ہونے کے ليے تيار ہے۔ان کي تکليف کو ديکھ کر آپ کي آنکھوں ميں آنسو آگئے۔ادھر جب حضرت طلحہ بن براء رضي اللہ عنہ نے ديکھا،رحمت عالم انہيں ديکھنے کے ليے آئے ہيں تو انہيں اپني خوش نصيبيميں کوئي شک نہ رہ گيا۔

آپ جب ان سے رخصت ہونے لگے تو فرمايا؛

طلحہ پر موت کے آثار ظاہر ہوگئے ہيں،اب غالبًايہ زندہ نہيں رہيں گے۔جب ان کا انتقال ہو جائے تو مجھے اطلاع کر دينا،تاکہ ميں ان کي نماز جنازہ پڑھ سکوں۔

يہ فرما کر آپۖ مدنيہ لوٹ گئے۔حضرت طلحہ رضي اللہ عنہ کا گھر مدنيہ منورہ سے تين ميل دور مسجد قبا کے کے اطراف ميں تھا۔راستے ميں يہود آباد تھے۔رات ہوئي تو ان کا آخری وقت آ پہنچا۔اللہ کے رسول سے محبت کا اندازہ لگائيے،ايسي حالت ميں اپنے مرنے کا غم،نہ عزيزواقارب کي جدائي کا رنج،خيال آيا تو صرف آپۖ کا۔فکرمند ہوئے توآپۖ کے ليے۔مرنےسے پہلے ہوش ميں آئے تو فرمايا۔

ديکھنا جب ميں مر جاؤں تو تم لوگ خود ہي نمازہ جنازہ پڑھ کر مجھے دفن کر دينا،رسول صلي اللہ عليہ وسلم کو اطلاع نہ کرنا،رات کا وقت ہے،جگہ دور ہے،راستے ميں يہودي آباد ہيں۔ايسا نہ ہو،انہيں آپۖ کي آمد کي خبر ہو جائے اور رات کي تاريکي ميں وہ کوئي شرارت کر بيٹھيں اور ميری وجہ سے آپۖ کوکوئي تکليف پہنچے۔

يہ تھي ان کي خواہش،حالانکہ ديکھا جائے تو ايک سچے مسلمان کي اس سے بڑھ کر اور کيا آرزو ہو سکتي ہے۔کہ حضور رحمت دوعالم صلي اللہ عليہ وسلم اس کي نمازجنازہ پڑھائيں،اس کے ليے دعا کريں۔

ليکن ان کي آپۖ سے محبت کا يہ عالم تھا کہ آپۖ کو اطلاع دينے سے اپنے لوگوں کو روک ديا تاکہ آپۖ کو کوئي تکليف نہ پہنچے۔

اسي رات طلحہ اللہ کق پيارے ہو گئے۔ انصار نے ان کي وصيت پر عمل کيا اور کفن دفن کے بعد نبي اکرم صلي اللہ عليہ وسلم کي خدمت ميں حاضر ہوئے،ان کي وفات کي اور وصيت کي خبر دي۔

آپۖ پر ان کي وصيت سن کر بہت اثر ہوا۔بعض صحابہ کو ساتھ لے کر ان کي قبر پر تشريف لائے اور ان کے ليے دعا فرمائي۔

اس سے بڑھ کر طلحہ بن براء رضي اللہ عنہ کي کيا خوش نصيبي ہوگي کا دين ودنيا کے سردار ان کے ليے دعا فرما رہے تھے۔

آپۖ نےان کے ليے جو دعا فرمائي،اس وقت تک کسي صحابي کے ليے ان الفاظ ميں دعا نہيں فرمائي تھي۔آپۖ نے فرماي

   اے اللہ طلحہ سے ايسي حالت ميں ملنا کہ آپ اسے ديکھ کر ہنستے ہوں اور وہ آپ کو ديکھ کر ہنستا ہو۔

 
يہ صفحہ اپنے احباب کو بھيجيں تمام جملہ حقوق بحق من موجي ويب ڈويلپرز محفوظ ہيں