pakistan, Multan, Emarkaz, Urdu, Poetry, Shop Online, Digital Maps, EShop, Emart, Craft, bazar, blog, earn mony, adsense, adword

 Urdu Font Download دس محرم کي تاريخي اور شرعي حيثيت

بے شک اللہ کے نزديک مہينوں کي تعداد ١٢ ھے جو اس کتاب "لوحٍ محفوظ "ميں اٍس دٍن سے لکھي ھے جب سے اٍس نے آسمان و زمين کو پيدا کيا ھے۔ اٍن ميں چار مہينے حرمت اور ادب والے ھيں۔يہ محکم دٍين ھے تو "اٍن حرمت والے مہينوں" ميں اپنے آپ پر ظلم نہ کيا کرو ۔بلکہ تم سب کے سب مشرکوں سے لڑا کرو جيسا کہ وہ سب تم سب سے لڑتے ھيں۔ "سورتہ التوبہ :آيت 36" قرآن پاک

بہت سي احا ديث کے مطابق ادب و احترام والے چار مہينے ھيں۔ "ذيقعدہ ذوالحجہ محرم رجب" ان ميں خاص طور پر گناہ لڑائي جھگڑا ظلم و ذيادتي منع ھے۔يہ متفقہ طور پر وہ حرمت والے مہينے ھيں جن کي حرمت کو عرب کے کفار نے بھي برقرار رکھا۔مگر افسوس عزت و احترام کا جو کام کفا ر نے کيا ۔ وہ ھم نا کر سکے۔بعض لوگ محرم کا چاند نظر آتے ھي اس کا پہلا عشرہ سوگ کي نظر کر ديتے ھيں۔ھمارے ملک بلکہ پاک و ھند ميں يہ تاثر پايا جاتا ھے کہ ماہ محرم کا مقدس ہونا شايد کربلا کے واقعے کي وجہ سے ھے۔حالانکہ اس کي حرمت و عظمت بہت پہلے سے ہے۔ خاص طور پر محرم کي 10 تاريخ کو تمام مذاھب کي آسماني کتابوں ميں بڑي قدرو منزلت کي نظر سے ديکھا گيا ھے۔

حضور نبي کريم صلي اللہ عليہ وسلم جب ہجرت کر کے مدينہ تشريف لاۓ تو ديکھا کہ يہودي عاشورہ <10محرم> کا روزہ رکھتے ھيں۔دريافت فرمايا يہ کيسا روزہ ھے؟ ۔اُنہوں نے بتايا يہ دٍن بڑا بابرکت ھے ۔ اٍس دٍن اللہ تعالٰي نے بني اسرائيل کو اٍن کے دُشمن فرعون سے نجات دلائي۔اٍس بنا پر حضرت موسٰي عليہ السلام نے اٍس دٍن شکرانے کا روزہ رکھا۔ "بخاري و مسلم"۔

فرعون اور اس کي قوم سے نجات پانے اور ان کے خزانوں کا وارث بننے پربني اسرائيل نے کو قومي  جشن کے طور پر منايا۔وہ اس دٍن شکرانے کا روزہ بھي رکھتے تھے۔اور مسرت و خوشي کا اظہار بھي کرتے تھے۔

حديث ميں ھے کہ اھل خيبر اس دٍن عيد مناتے تھے۔اٍن کي عورتيں زيورات پہنتي تھيں۔بناؤ سنگھار کرتي تھيں۔"مسلم ، کتاب الصوم"۔

اس دٍن کي اھميت اس سے بھي پہلے کي ھے۔اٍس دٍن حضرت نوح عليہ السلام کي کشتي جودي پہاڑ پر لنگر انداز ھوئي تھي۔ تو اَُنہوں نے روزہ رکھا تھا۔"مسند احمد"۔

اٍس دَن کو يہودي اور عيسائي بڑا خيال کرتے ھيں۔اور روزہ رکھتے ہيں۔"مسلم،کتاب صوم"۔

قريش دور جاھليت ميں عاشورہ کے دٍن کا روزہ رکھتے تھے۔"مسلم"۔

غرضيکہ رسول اللہ صلي عليہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنے کي وجہ پوچھي اور ان کا جواب سُن کر آپ صلي عليہ وسلم نے فرمايا: ھم تمھاري نسبت حضرت موسٰي کے زيادہ قريبي تعلق دار ہيں۔اس ليے بطور شکرانہ اس دن کا روزہ رکھنے کا ہميں زيادہ حق ہے۔

آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: "عاشورہ کا روزہ رکھنے سے گزشتہ ايک سال کے گناہ معاف ھو جاتے ھيں"۔"مسلم"۔

آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: "عاشورہ کے دٍن کا روزہ رکھو ليکن اس ميں يہوديوں کي مخالفت کرو اور ايک دٍن پہلے يا بعد کا بھي روزہ ساتھ ملا لو۔ " يہ بھي فرمايا "اگر آئندہ سال زندہ رھا تو نوويں محرم کا روزہ بھي رکھوں گا۔""مسلم :کٍتاب الصوم"۔ليکن اس سے پہلے ھي آپ صلي اللہ عليہ وسلم رفيق اعلٰي سے جا ملے۔

اسلامي نقتئہ نظر سے عاشورہ کے دِن کي يہي حقيقت اور اھميت ھے کہ اس دٍن شکرانے کا روزہ رکھا جائے۔جبکہ ھمارے ھاں جو رسومات ان دنوں کي جاتي ہيں۔اٍن کا اسلام سے کوئي تعلق نہيں۔مثلاَ ان دنوں روزہ رکھنے کي بجائے پاني ،شربت کي سبيليں لگانا  چائے اور کھانے تقسيم کرنا۔ماہ محرم ميں بطور سوگ شادي نہ کرنا۔ايسي مجالس ميں جانا، تعزيہ ،ذولجناح، علم، اور تابوت وغيرہ کا اھتمام کرنا اور ان کي تعظيم کرنا ،ان سے منتيں ماننا يہ سب غير شرعي امور ہيں۔

اللہ تعالٰي ہميں صرف رسول اللہ صلي عليہ وسلم کي اٍتباع نصيب فرمائے اور ايسي رسومات سے بچنے کي توفيق دے جو اسلام کے خلاف ھيں يا باطل مذاھب کي نقالي ميں ايجاد کي گئي ھيں۔ آمين

EB/ 255 محمد اشفاق علوي ۔ چک نمبر
 
يہ صفحہ اپنے احباب کو بھيجيں تمام جملہ حقوق بحق من موجي ويب ڈويلپرز محفوظ ہيں