pakistan, Multan, Emarkaz, Urdu, Poetry, Shop Online, Digital Maps, EShop, Emart, Craft, bazar, blog, earn mony, adsense, adword

Dua, Apnamultan,apna multan,pakistan,Mujtaba, 03336105018,Multan, All About Multan, PIA Schedule, Railway Timings, Prayer Timings, Google Search, Business Directory, Business Search, Education, BZU Multan, Govt. Colleges, Historical Places, Oldest City In the World, Mujtaba, Manmoji Web Developers, City of SainUrdu Font Downloadts

                          ميں شہيد ہوں

آنحضرت صلّي للہ عليہ وسلّم اپنے گھر ميں ليٹے ہوۓ تھے۔آپ صلّي للہ عليہ وسلّم کي پنڈلياں اس وقت کھلي ہوئي تھيں۔ايسے ميں حضرت ابوبکر رضي اللہ عنہ نے اندر آنے کي اجازت مانگي۔آپ صلّي للہ عليہ وسلّم نے اجازت دے دي اور اسي طرح ليٹے رہے۔ان سے بات چيت ہو رہي تھي کہ حضرت عمر رضي اللہ عنہ نے اندر آنے کي اجازت چاہي۔انھيں بھي اجازت مل گئ۔ ليکن آپ اسي طرح ليٹے رہےاور دونوں حضرات سے بات کرتے رہے۔اتنے ميں حضرت عثمان رضي اللہ عنہ نے اندر آنے کي اجازت چاہي،آپ صلّي اللہ عليہ وسلم اٹھ بيٹھے اور اپنے کپڑےدرست کرليے۔جب يہ تينوں حضرات چلے گۓ تو حضرت عائشہ صديقيہ رضي اللہ عنہا نے پوچھا:اے اللہ کے رسول صلّي اللہ عليہ وسلم ابوبکر آۓ آپ نے حرکت نہيں کي، عمر آۓ، آپ اسي طرح ليٹے رہے،ليکن جب عثمان آۓ تو آپ اٹھ بيٹھ گۓ اوراپنے کپڑے بھي درست کرليے،يہ کيوں؟

آنحضرت صلّي اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمايا: ُميں ايسے شخص سے کيوں نا حيا کروں جس سے فرشتے بھي حيا کرتے ہيں۔ ، مسلم،١  

غزوہ تبوک کے موقع پر آنحضرت صلّي اللہ عليہ وسلم نے مسلمانوں سے لشکر کي تياري کے سلسلے ميں خرچ کرنےکا حکم فرمايا۔حضرت عثمان رضي اللہ عنہ فوراٌ اٹھ کھڑے ہوۓاور عرض کيا: اے اللہ کے رسول صلّي اللہ عليہ وسلم ميں سو اونٹ مع سازوسامان کے ديتا ہوں۔آپ صلّي اللہ عليہ وسلم نے پھرفرمايا تو حضرت عثمان رضي اللہ عنہ پھر اٹھے اور فرمايا ۔؛  " اے اللہ کے رسول صلّي اللہ عليہ وسلم ميں دو سو اونٹ مع سازوسامان کے ديتا ہوں۔  " آنحضرت صلّي اللہ عليہ وسلم نے تيسري بار پھر اعلان فرما يا تو حضرت عثمان رضي اللہ عنہ پھر اٹھ کھٹرے ہوۓاور عرض کيااے ًاللہ کے رسول صلّي اللہ عليہ وسلم ميں تين سو اونٹ مع سازو سا مان کے ديتا ہوں۔ " اس حديث کے راوي حضرت عبدالرحمن بن خباب رضي اللہ عنہ فر ماتے ہيں کہ اس کے بعد آنحضرت صلّي اللہ عليہ وسلم منبر سے اترتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے۔ " آج  کے بعد عثمان کا کوئ عمل بھي انھيں نقصان نہيں پہنچاسکے گا ۔۔۔"يعني ان کي تمام خطائيں معاف ہيں۔ ،ترمزي۔

غزوہ تبوك کے موقع پر حضرت عثمان رضي اللہ عنہ نے ايک ہزار دينار آنحضرت صلّي اللہ عليہ وسلم کي خدمت ميں پيش کيے۔ آپ صلّي اللہ عليہ وسلم نے ان ديناروں کو اپني گود ميں ڈال ليا۔آپ صلّي اللہ عليہ وصلم ان کو الٹتے پلٹتے تھے اور :فرماتے جاتےتھے

آج کےبعد عثمان کچھ بھي کريں ان پر کوئي گناہ نہيں"۔  "

             يہ جملہ آپ صلّي اللہ عليہ وسلّم نے دوبار فرمايا۔،مسند احمد

ايک روز آنحضرت صلّي اللہ عليہ وسلم فتنوں کا ذکر کر رہے تھے۔ايسے ميں ايک شخص سر پر کپڑا اوڑھے سامنے سے گذرا۔ آنحضرت صلّي اللہ عليہ وسلم نے اشارہ کرتے ہوۓ فرمايا؛"يہ شخص کون ہے"يعني جب فتنہ اور فساد برپا ہوگا تو يہ شخص اس وقت سيدھے راستے پر ہوگا۔اس حديث کے راوي مرہ بن کعب رضي اللہ عنہ کہتے ہيں کہ ميں اس ارادے سے اٹھا کہ جا کر ديکھوں،يہ کون ہے۔ نزديک پہنچا تو ميں نے ديکھا، وہ عثمان بن عفان رضي اللہ عنہ تھے۔ميں نے ان کا چہرا نبي کريم صلّي اللہ عليہ وسلم کي طرف کرکے پوچھا۔۔۔"کيا آپ نے يہ بات انہي کے بارے ميں فرمائي ہے۔" آنحضرت صلّي اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمايا:"ہاں"۔۔،ترمذي،ابن ماجہ۔۔

امام ترمذي رحمہ اللہ اس حديث کے بارے ميں لکھتے ہيں کہ يہ حديث صحيح ہے۔

بلوائيوں نے جب حضرت عثمان رضي اللہ عنہ کے گھر کو گھيرے ميں لے ليا تو ايک روز آپ چھت پر آۓ اور فساديوں کي طرف دیکھ کر فرمايا:"ميں تمہيں اللہ کا واسطہ دے کر پو چھتا ہوں،کيا تم جانتے ہو، رسول صلّي اللہ عليہ وسلم جب مدينہ ميں تشريف لاۓ  تو اس وقت مدينہ ميں پاني ميٹھا کنواں سواۓ روحہ کنويں کے کوئي اور نہيں تھا۔آنحضرت نے لوگوں سے فرمايا تھا،کون ہے جو روحہ کنواں خريدے اور مسلما نوں کے ليے وقف کردے۔۔۔اسکے بدلے ميں اسے جنت ملے گي۔۔۔ميں نے وہ کنواں اپنے خالص مال ميں سے خريد کر مسلمانوں کے ليئے وقف کيا تھا يا نہيں۔

ان لوگوں نے جواب ديا:

"ہاں يہي بات ہے۔"

تب حضرت عثمان رضي اللہ عنہ بو لے"آج تم نے مجھے اس کنويں کے پاني سے بھي محروم کر ديا ہے۔

پھر آپ نے انہيں مخاطب کر کے فرمايا؛

اور ميں تمہيں اللہ کا وا سطہ دے کر پو چھتا ہوں، مسجد نبوي نمازيوں کے ليے تنگ ہوگئ  تھي۔۔۔آنحضرت صلّي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا تھا کون فلاں شخص کي اولاد  سے مسجد کے سا تھ  والي زمين خريد کر مسجد ميں شامل کرتا ہے۔بدلے ميں اسے جنت ملے گي۔۔۔تو ميں نے اس کو اپنے خالص مال سے خريد تھا۔۔۔تم آج مجھے اس مسجد ميں دورکعت نماز ادا نہيں کرنے ديتے۔۔۔ کيا يہي بات ہے"۔

فساديوں نے کہا؛"ہاں يہي بات ہے"۔

اب پھر حضرت عثمان نے فرمايا:'ميں تم خدا کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں۔۔۔غزوہ تبوک کے لشکر کے ليے ميں نے سامان ديا تھا يا نہيں"۔

فساديوں نے کہا؛"ہاں ديا تھا"۔

آپ نے پھر فرمايا؛"ميں تم خدا کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں۔۔۔آنحضرت صلّي اللہ عليہ وسلم پہاڑ پر تشريف فرما تھے۔آپ کے ساتھ ابوبکر رضي اللہ عنہ،عمررضي اللہ عنہ اورميں بھي تھا۔۔۔ايسے ميں پہاڑ ہلاتھا۔۔۔آنحضرت صلّي اللہ عليہ وسلم نے پہاڑ پر اپنے جوتےکي ايڑي مار کر فرمايا تھا۔۔۔اے پہاڑ ٹھر جا۔۔۔تجھ پر ايک نبي،ايک صديق اور دو شھيد کھڑے ہيں۔۔۔يہ بات اسي طرح ہے يا نہيں"۔

اس پر ان لوگوں نے کہا؛

"ہاں يہي بات ہے

تب حضرت عثمان نے اللہ اکبر کہا اور بولے ؛"قسم ہے کعبے کے رب کي  ميں شہيد ہوں،ميں شہيد ہوں"۔

پھر آپ چھت سے اتر آۓ۔۔،مشکْوتہ۔۔۔ 

 

 

 
يہ صفحہ اپنے احباب کو بھيجيں تمام جملہ حقوق بحق من موجي ويب ڈويلپرز محفوظ ہيں